مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اسماعیل بقائی نے جمعہ کی شب نیٹو کے سیکریٹری جنرل مارک روٹے کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر لکھا کہ یورپ میں موجود امریکی وسائل کے وسیع پیمانے پر استعمال کے ذریعے امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کی تیاری اور اسے عملی جامہ پہنانے سے متعلق مارک روٹے کا بیان اس بات کا واضح اعتراف ہے کہ یورپ نے ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ میں جان بوجھ کر اور فعال طور پر حصہ لیا، حالانکہ جنگ کے دوران وہ متعدد مرتبہ اس کی تردید کرتے رہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ یورپی یونین، اس کے رکن ممالک اور نیٹو کے رکن ممالک کو ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی فوجی کارروائی میں اپنے کردار اور شرکت کے حوالے سے جواب دہ ہونا چاہیے۔ اس میں ہر قسم کی سیاسی، فوجی یا دیگر معاونت بھی شامل ہے۔
بقائی نے کہا کہ یورپی شہریوں کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنی حکومتوں سے ان فیصلوں کے بارے میں جواب طلب کریں جو انہوں نے اس کارروائی کی حمایت یا اس میں شرکت کے لیے کیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایندھن کی قیمتوں میں اضافے اور اس غیر قانونی جنگ کے دیگر اثرات کا جائزہ لیتے وقت ان یورپی حکومتوں کے کردار کو بھی مدنظر رکھا جانا چاہیے جنہوں نے اس کارروائی کے لیے حالات سازگار بنانے اور اسے معاونت فراہم کرنے میں کردار ادا کیا۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے مزید کہا کہ نیٹو کے سیکریٹری جنرل کی حیثیت سے مارک روٹے کے کردار کا بھی جائزہ لیا جانا چاہیے، بالخصوص ان اقدامات اور فیصلوں کی تحقیقات ہونی چاہییں جو اس جنگ کے حوالے سے ان کے اختیار اور ذمہ داری کے تحت کیے گئے۔
آپ کا تبصرہ